پنجاب، کے پی میں انتخابات، چار ججز بینچ سے الگ، پانچ ججز کے بینچ کی جانب سے سماعت جاری

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

سپریم کورٹ کے چار ججز پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے لیے ازخود نوٹس پر سماعت کرنے والے بینچ سے الگ ہو گئے ہیں جس کے بعد پانچ ممبر بینچ سماعت جاری رکھے گا۔

سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہےکہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کس کی آئینی ذمہ داری ہے؟ اس نکتے پر ازخود نوٹس لیا۔

سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ میں سے 4 ججز بینچ سے علیحدہ ہو گئے، ان میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحیٰ آفریدی،جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

الگ ہونے والے ججز نے تحریری حکم نامے میں اپنے نوٹس شامل کیے ہیں۔

Fp9cbiYXgAEU SX | پاکستان from Narratives Magazine

جسٹس منصور علی شاہ نے نوٹ لکھا ہےکہ دو سینئر جج صاحبان کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، عدلیہ پر عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہےکہ اس کی شفافیت برقرار  رہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے تفصیلی نوٹ میں لکھا کہ ہمارے سامنے آنے  والا معاملہ پہلے ہی صوبائی آئینی  عدالت کے  سامنے موجود ہے، اس معاملے کا سپریم کورٹ آنا ابھی قبل از وقت ہے، کسی اور  معاملے کو  دیکھنے سے  پہلے اسمبلیاں توڑنےکی آئینی وقانونی حیثیت  دیکھنا ناگزیر ہے، صوبائی اسمبلیاں توڑنےکی آئینی وقانونی حیثیت کو  نظر انداز  نہیں کیا  جاسکتا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں ازخود نوٹس پر اعتراض اٹھاتے ہوئےکہا  کہ غیر متعلقہ معاملے کے اوپر ازخود نوٹس لیا گیا، عدالت کا جو اختیار ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک معاملہ جو پہلے عدالت میں ہے اس پر ازخود نوٹس لیا جائے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ 4 معزز ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے،عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا،مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنے کی کوشش کریں گا

عدالت نے پی ڈی ایم کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کر دی۔

گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ پاکستان کے آئین اور عوام نے ہمارے دروازے پر دستک دی ہے۔

سماعت کے دوران پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی بینچ میں شمولیت پر اعتراض کر دیا تھا۔

انہوں نے استدعا کی تھی کہ سپریم کورٹ پی ڈی ایم کی طرف سے بینچ پر اٹھائے گئے اعتراض کو پہلے سنے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیر کے دن ان اعتراضات کو بھی سنیں گے۔

تین سیاسی جماعتوں مشترکہ بیان میں یہ بھی درخواست کی گئی تھی کہ دونوں ججز مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کے کسی بھی مقدمے کی سماعت نہ کریں۔

گزشتہ سماعت پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ معاملہ فل کورٹ سنے؟

جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جس سوال پر ازخود نوٹس لیا گیا یہ سیاسی معاملہ ہے، بہتر ہے اسے پارلیمنٹ لے کر جائیں۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر،  جسٹس  یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر  علی اکبر  نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل،  جسٹس محمد علی مظہر  اور  جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین

پنجاب میں انتخابات کے التوا کے خلاف درخواست سماعت، چیف جسٹس کے اہم سوالات

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف...

عدالت عظمیٰ کارئیل اسٹیٹ شعبے کو انکم ٹیکس میں عبوری ریلیف

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدھ کو ہونے والی...