پرامن لانگ مارچ کی کامیابی ایک واہمہ

Date:

ترجمہ : مجاہد خٹک

‘جو لوگ پرامن انقلاب کو ناممکن بنا دیتے ہیں، وہ خونی انقلاب کو ناگزیر بنا دیتے ہیں’ جان ایف کینیڈی

ہر ملک کا ایک مرکز ثقل (سنٹر آف گریویٹی) ہوتا ہے، یہ ایک ایسا مقدس عنصر ہے جو قوم کو اکٹھا رکھتا ہے اور اگر اسے ہٹا دیا جائے تو جاتے جاتے یہ ملک کو بھی ڈبو دیتا ہے۔ تمام قوموں کا یہ مرکز ثقل عموماً جمہوریت یا عوام کی شکل میں ہوتا ہے، یا پھر شاید حکومت کی صورت میں یا پھر معیشت وغیرہ میں وجود رکھتا ہے لیکن پاکستان میں یہ فوج کے ادارے کی شکل میں موجود رہا ہے۔ ایسا کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا بلکہ حالات کے جبر نے اسے وجود پذیر کر دیا۔

بدانتظامی اور برے طرز حکمرانی نے خودبخود فوج کے لیے گنجائش پیدا کی جس کے نتیجے میں اس ادارے نے خارجہ پالیسی، معاشی منصوبوں، انتظامی سرگرمیوں، سیاسی نظام اور حتیٰ کہ عدلیہ کے فیصلوں تک سب کچھ سنبھالا، اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ کوئی اور یہ نہیں کر پایا تھا۔

مساوات میں ہمیشہ ایک طرف ریاست کو بچانے کا آپشن تھا تو دوسری جانب حکومت کو بچانے کا سوال تھا۔ پاکستان دھیرے دھیرے فوج پر انحصار کرنے والی قوم بنتا گیا جس میں ہر چیز کے لیے فوج ذمہ دار تھی۔ فوج، جو کہ ہر حکومت کے ساتھ ہچکچاتے ہوئے اور کمزور سے جذبے کے ساتھ کھڑی رہتی تھی، نے خود کو یقین دلا دیا کہ ان کی رائے اور مشورہ، جو کہ اکثر مانگا جاتا تھا، واقعی بہت ضروری تھا اور جسے قومی فرض سمجھ کر بلاتکلف دیا جاتا رہا۔

یہ سوال دلچسپ اور بحث طلب ہے کہ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا پاکستان ایک بہتر مقام پر کھڑا ہوتا۔ یہ مفروضوں پر مبنی ممکنات کی غیرضروری سرزمین میں قدم رکھنے کے مترادف ہے، یہ ایسا ہی سوال ہے کہ جیسا کہ اگر جرمنی دوسری جنگ عظیم جیت جاتا تو دنیا کیسی نظر آتی۔

آج سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور لوگ ایک محصور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں، یہ ایک ایسی حکومت ہے جس نے خود پر ہی محاصرہ طاری کر رکھا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے پر تلی ہوئی ہے کہ 27 کلومیٹر کی سڑک پر مشتمل ان کی حکومت کو نہ ہی کوئی پریشان کر سکے اور نہ ہی رکاوٹ پیدا کر سکے۔ یہ تمام صورتحال انتشار اور بے یقینی کا منظر پیش کر رہی ہے۔

ایک طرف مخلوط حکومت ہے جسے ذاتی مفادات نے جوڑ رکھا ہے، اسے زبردستی اور رشوتیں دے کر مطمئن کیا گیا ہے اور دوسری جانب ایک مقبول جماعت ہے جس نے سڑکوں کا رخ کیا ہوا ہے۔ میرے پی ٹی آئی کے متعلق کئی معاملات پر سنجیدہ تحفظات ہیں لیکن میں اپنی رائے کو عوامی خواہشات کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دوں گا کیونکہ حق حکمرانی صرف عوام کا ہے۔

جس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہٹائی گئی اس کی مقبولیت کم ہو چکی تھی اور مزید کم ہوتی جا رہی تھی۔ اگر یہ حکومت میں رہ جاتی تو اگلے انتخابات میں اسے تباہ کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس کا عکس خیبرپختونخوا میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات میں نظر آ گیا تھا جہاں عوامی طاقت نے پی ٹی آئی کو اس کا مقام دکھا دیا تھا۔

لیکن جس طرح ان کی حکومت کو ہٹایا گیا اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور اس کے حق میں عوامی ہمدردی کی لہر اٹھی۔ یہ طاقتور کے سامنے کمزور کا مقدمہ تھا جس میں فیصلہ فریق ثانی کے حق میں ہوا جس کے بعد پی ٹی آئی عوامی جذبات کی ترجمان بن گئی۔

یہ تاثر پھیلا کہ پی ٹی آئی کے خلاف یک رخا میڈیا، واضح طور پر جانبدار الیکشن کمیشن، کمزور نیب، طرفدار ایف آئی اے، بدعنوان اور اخلاقیات سے محروم پولیس اور بظاہر جانب دار عدلیہ، سب اکٹھے ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی تنہا جماعت نظر آئی جو عوام کی ترجمان تھی اور جو ایک ایسی مصنوعی حکومت کے خلاف ریاست کی برتری کیلئے لڑ رہی تھی جو ان کی فوری مشکلات کا باعث بن گئی تھی۔

اگرچہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کو اس کے رہنما کی توانائی، اس کا بے پناہ سٹیمنا اور لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت سے منسوب کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی بہت بڑی وجہ عوام کی پی ڈی ایم سے اس کے نظریات اور حرکات سمیت نفرت ہے جس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس نفرت نے پہلے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں اور اس کے بعد قومی سطح پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنا بھرپور اظہار کیا، اس دوران حکومت بری طرح شکست کھا کر بھی ضد پر اڑی رہی اور استعفیٰ دینے کے وقار سے محروم نظر آئی۔ موجودہ حکومت کے خلاف گہری ناپسندیدگی، جس انداز میں انہیں لایا گیا اور ریاستی اداروں کی طرف سے ان کی مدد کی گئی، اس نے لوگوں میں اتنا غم و غصہ بھر دیا ہے کہ انہوں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ارسطو نے کہا تھا کہ کوئی جمہوریت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک ہر شخص کسی دوسرے کے خلاف ہونے والی ناانصافی پر اس قدر غصہ کرنے کا اہل نہ ہو جتنا غصہ اسے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر آتا ہے۔

اب ہم ملک میں پھیلے انتشار اور ہنگاموں میں ایک نیا مظہر دیکھ رہے ہیں، یہ طیش سے بھرے عوام کی چیخ و پکار ہے جو ایک ایسی فضا میں اپنی آواز کی متلاشی ہے جس میں حق حکمرانی فطری طور پر اور فوج سے عوام کی جانب رخ کر رہا ہے، دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرکز ثقل کا پینڈولم اب عوام کی جانب جھک رہا ہے۔ یہی ہونا چاہیئے اور سب یہی چاہتے ہیں، حتیٰ کہ فوج بھی اسی کی خواہش مند ہے۔

ہم ایک عبوری دور سے گزر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم حیرت انگیز چیزوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے نکتہ نظر کی وضاحت پیش کر رہا ہے، کچھ لوگ اپنی اور بعض اوروں کی پوزیشن کا دفاع کر رہے ہیں، ہر طرف افسانے بکھرے پڑے ہیں جن میں بعض کو گھڑا گیا ہے، بعض آدھی سچائی سے بنے ہیں اور کچھ یکسر جھوٹے ہیں۔

کوئی دوسرے کے کہے پر یقین نہیں کر رہا، ہر ادارہ اپنا اعتبار کھو چکا ہے، حکومت کا ہر شعبہ اپنا اعتماد ختم کر بیٹھا ہے۔ سڑکوں پر انتشار ہے، قانون کی حکمرانی بکھرتی جا رہی ہے، لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے اور حکومت نے خود کو اسلام آباد میں محصور کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مرکز ثقل کی فوج سے عوام کی طرف منتقلی کے دوران اگرچہ ہم ترتیب اور امن بحال ہوتے دیکھ سکتے ہیں لیکن معاملات پریشان کن، مبہم اور متضاد رہیں گے۔

ہمارے سامنے چند سوالات آن کھڑے ہیں۔ کیا لانگ مارچ مکمل ہو پائے گا؟ کیا اس کے نتیجے میں جلد انتخابات ہو سکیں گے؟ حکومت کے پاس ہمدردی کی وہ صلاحیت مفقود ہے جس کے ذریعے وہ عوامی دباؤ کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ دے، وہ شرم سے آزاد ہیں اور وقار سے محرومی ان کی طاقت بن جائے گی جس کے ذریعے وہ کسی بھی ذریعے اور طریقے سے اقتدار سے چمٹے رہیں گے۔

ان کا حکومت میں آنے کا مقصد عوام، انصاف، اخلاقیات یا انتظام سبنھالنا نہیں ہے، ہم جانتے ہیں کہ ان کا مقصد کیا تھا اور کیا ہے، انہوں نے خود اس کا اظہار کر دیا ہے۔ اس لیے یہ خیال، توقع یا امید عبث ہے کہ جی ٹی روڈ پر اگلے پانچ یا چھ دنوں کا میلہ، جو اسلام آباد جا کر کسی کونے کھدرے میں بنے ایک پارک میں موسیقی کی شاموں میں بدل جائے گا، حکومت کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دے گا۔ سوائے طاقت کی دھمکی کے انہیں کوئی چیز نہیں ہلا سکتی۔

اس لیے اگر معاملات پرامن رہتے ہیں تو میں ایک تعطل دیکھ رہا ہوں اگرچہ موسیقی سے بھری شامیں اور تفریح کی فراوانی جاری رہے گی۔ یہ سب بہت دلچسپ ہو گا لیکن اس سے حکومت نہیں بدلے گی۔ کیا یہ سرگرمی زندگی کے معمولات میں رخنہ ڈالے گی؟ عین ممکن ہے کہ ایسا ہو۔ ایک ایسا ملک جو سیلاب کے اثرات، معاشی ابتری اور سرحد پر منڈلاتے خطرات سے نمٹنے کی سعی کر رہا ہے اس کے لیے فعال حکومت کے بغیر رہنا خودکشی ہوگی۔

کسی نہ کسی قسم کی اتھارٹی لازمی ہو گی، ہمیں ملک کو مستحکم بنانے کے لیے کسی نگران/ٹیکنوکریٹ/این ایس سی قسم کی حکومت جیسے عبوری اقدامات دیکھنے کے منتظر رہنا چاہیئے۔ ایک غیرسیاسی شخصیت کے طور پر میں اس بات کی سفارش کروں گا کہ اس عبوری حکومت کو ضروری قومی اصلاحات کا اختیار ملنا چاہیئے کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ان اصلاحات کے لیے نہ ہی ارادہ موجود ہے اور نہ ہی ان میں عزم اور اخلاص پایا جاتا ہے۔

اگر ایسی اصلاحات نہیں ہوتیں تو پھر کب انتخابات ہوتے ہیں اور کون فتحیاب ہوتا ہے جیسے معاملات کوئی اہمیت نہیں رکھتے، ہم ویسے ہی حالات میں رہیں گے جیسے اب تک رہتے چلے آ رہے ہیں۔ جو اصلاحات سب سے زیادہ ضروری ہیں اور جنہیں کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں کرنا چاہتی وہ حسب ذیل ہیں۔

1۔ نظام انصاف میں اصلاحات جن میں ایک جج کے بجائے جیوری ہونی چاہیئے۔

2۔ پولیس کو غیرسیاسی بنانا اور انہیں آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دینا۔

3۔ مزید صوبے بنانا تاکہ سیاسی انتہاؤں سے بچا جا سکے۔

4۔ مولویوں کو واپس بوتل میں بند کرنا اور نظریاتی انتہاپسندی اور خود کو برتر سمجھنے والی ذہنیت سے نمٹنا۔

5۔ معاشی اصلاحات کرنا تاکہ نئے ذرائع متعارف کرا کے مالی خودمختاری حاصل کی جا سکے۔

6۔ آئین پر نظرثانی کرنا اور قرارداد مقاصد کے خاتمے پر غور کرنا۔

7۔ تنگ نظری اور اقربا پروری کے بجائے ہر شعبے میں میرٹ کو متعارف کرانا۔

8۔ حقیقی احتساب کرنا۔

9۔ ایک نیا میثاق تعلیم جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے۔

10۔ صدارتی طرز حکومت کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد جس میں حالیہ حالات کے پیش نظر یہ سوچا جائے کہ ہمارا قومی کردار پارلیمانی نظام حکومت کے لیے کس قدر غیرموزوں ہے۔

Tariq Khan HI(M)
Tariq Khan HI(M)http://narratives.com.pk
The writer is a retired Lt General of the Pakistan Army. He is noted for his services as the Commander of I Strike Corps at Mangla and Inspector General of the Frontier Corps.

Share post:

Subscribe

Popular

More like this
Related

عمران خان کا لانگ مارچ سے خطاب، اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان

راولپنڈی میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے...

پولیس نے پی ٹی آئی کو فیض آباد کے قریب اسٹیج بنانے سے روک دیا

پولیس نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر...

عمران خان کا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے اعلان...

اسد عمر کا لانگ مارچ کے پلان میں تبدیلی کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے...