گیس کی فراہمی میں عدم تسلسل کے باعث برآمدات میں کمی کا خدشہ

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

گیس کی فراہمی میں عدم تسلسل کے باعث پاکستانی برآمدات میں کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بزنس مین گروپ کے صدر زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ حکومت کس طرح ایکسپورٹرز سے بنگلہ دیش اور بھارت کا مقابلہ کرنے کی توقع کر سکتی ہے جبکہ انہیں گیس کی مسلسل فراہمی نہیں مل رہی۔

یہ شکوہ انہوں نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے زیراہتمام سوئی نادرن گیس کمپنی کی درخواست پر عوامی سماعت کے دوران کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم برآمدات کی موجودہ صلاحیت میں 50 فیصد اضافہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن اس کے لیے مطلوبہ مقدار اور معیار کی گیس کی فراہمی ضروری ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بنگلہ دیش صنعت کاروں کو 34 فیصد گیس دیتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح صرف 21 فیصد ہے، اس کے باوجود ہمیں کم برآمدات کا الزام دیا جاتا ہے۔

زبیرموتی والا نے کہا کہ بنگلہ دیش اور بھارت میں گھریلو صارفین کے بجائے صنعتوں کو پہلی ترجیح دی جاتی ہے، ان ممالک کی برآمدات بڑھنے میں یہ بنیادی عامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صنعتیں گیس کی قیمت بھی زیادہ ادا کرتی ہیں اور اس کی فراہمی بھی انہیں کم ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں گھریلو صارفین صرف 30 فیصد اور کھاد کا شعبہ 15 فیصد قیمت ادا کرتا ہے، بقیہ تمام کا بوجھ صنعتوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔

یونین آف سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز (یونی سیم) کے چیئرمین ذوالفقار تھاور نے اس موقع پر کہا کہ معاشی نمو اور برآمدات اور ملازمتوں میں اضافے کے لیے صنعتوں کو پہلی ترجیح دینی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ گھریلو صارفین کے پاس متبادل ذرائع موجود ہیں جنہیں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر موتی والا نے سوال اٹھایا کہ جب گیس ہی موجود نہیں ہے تو پائپ لائنز کس لیے بچھائی جا رہی ہیں؟ ایس ایس جی سی کو صرف پرانی، زنگ آلود پائپ لائنز کو بدلنا چاہیئے تاکہ گیس لیکج کو روکا جا سکے۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین