سمندر کی تہہ میں بچھی انٹرنیٹ کیبلز چین اور امریکہ کی لڑائی کا نیا میدان کیسے بنیں؟

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

عالمی منظر نامے پر اس وقت چین اور امریکا ہر محاذ پر ایک دوسرے سے برِ پیکار نظر آتے ہیں۔ سپر پاور ہونے کے دعوے ار ان دونوں کے درمیان کشیدہ تعلقات بھی کچھ انوکھے ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ سال خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں دوعویٰ کیا تھا کہ چین امریکا تعلقات میں سرد مہری کا سبب کچھ اور نہیں صرف ایک کمپیوٹر چپ ہے۔

رائٹرز کے مطابق ان کمپوٹر چپ کو بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی کا تعلق تائیوان سے ہے اور امریکا کو خدشات لاحق ہیں کہ اگر چین تائیوان پر قابض ہوکر اس چس ساز ادارے پر اپنا تسلط قائم کرلیتا ہے تو ففتھ جنریشن وار کی اس ڈور میں چین کو سبقت حاصل ہوجائے گی۔

ان دونوں ممالک کا نیا تنازعہ بھی چپ کی طرح الگ ہی ہے جو کہ زیر آب موجود انٹرنیٹ کیبلز ہیں۔ ان زیر آب کیبلز میں دنیا بھر کا ڈیٹا سفر کرتا ہے اور اسی وجہ سے انہیں اب چین امریکا ٹیکنالوجی کی جنگ میں اہمیت حاصل ہے۔

چینی جاسوسی کے خوف میں مبتلا واشنگٹن نے ایک بڑی ٹیک کمپنی کے کیبل کے راستوں کو روک کر چینی پراجیکٹ میں تعطل پیدا کردیا ہے۔

اس تنازع کا آغاز ایک کاروبار سے ہوا، یہ کاروبار دنیا کے سب سے جدید زیر آب فائبر آپٹک کیبلز کے ایک بڑے نجی ٹھیکے کا ہے، جو کہ اب امریکا اور چین کے درمیان ایک بڑھتی ہوئی پراکسی وار بن گئی ہے۔ جو آنے والی دہائیوں میں اس بات کا تعین کرسکتی ہے کہ کون معاشی اور فوجی غلبہ حاصل کرنے میں کام یاب ہوسکتا ہے۔

رواں سال فروری میں امریکی سب سی کیبل کمپنی سب کوم ایل ایل سی نے ایشیا سے یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے راستے، سمندری فرش کے ساتھ چلنے والے 12ہزار میل سے زیادہ فاصلے تک انتہائی تیز رفتاری سے ڈیٹا کی منتقلی کے لیے  600 ملین ڈالر کی فائبر کیبل بچھانے کی شروعات کی۔

مختصراً اس کیبل کو سی می وی 6 ( ساوتھ ایشیاء- مڈل ایسٹ- ویسٹرن یورپ6)  کہا جاتا ہے۔ یہ ایک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی درجنوں ممالک کو سنگاپور سے فرانس تک ایک دوسرے سے مربوط کرے گی۔ تین سمندروں اور بحیرہ عرب کو عبور کرنے والا یہ منصوبہ 2025 میں مکمل ہوگا۔

اور یہ وہ منصوبہ تھا جو کہ چین کے ہاتھوں سے نکل گیا۔

قیمتی کیبل کا قیمتی منصوبہ

واشنگٹن کی ایک کام یاب مہم کے ذریعے امریکی سب کوم نے چینی کمپنی ایچ ایم این ٹیک کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس کیبل کے لیے 600 ملین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کرلیا۔  سب کوم کو یہ کنٹریکٹ ملنے کا ایک اہم سبب واشنگٹن کا چینی کمپنی سے دور رہنے کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ بھی تھا۔

اس معاہدے میں شامل 6 افراد کے مطابق ایچ ایم این ٹیک کمپنی جو زیر سمندر کیبل بچھانے کی صنعت میں تیزی سے ابھری ہے ، تین سال قبل اس معاہدے کے حصول کے قریب قریب تھی۔

یہ کیبل منصوبہ دنیا بھر کی درجن سے زائد کمپنیوں کا کنسورشیم  تھا، جن میں تین چین کی ریاستی کمپنیاں چائنا ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (چائنا ٹیلی کام)، چائنا موبائل لمیٹڈ اور چائنا یونائیٹڈ نیٹ ورک کمیونیکیشنز گروپ کمپنی لمیٹڈ (چائنا یونیکوم) – نے کنسورشیم کے اراکین کے طور پر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، جب کہ اس میں امریکہ کی مائیکرو سافٹ کارپوریشن، فرانس کی ٹیلی کام فرم اونج ایس اے بھی شامل تھی۔

سن 2000ء کے اوائل میں چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کی زیر ملکیتی کمپنی ایچ ایم این ٹیک کو اس منصوبے کے تحت کیبل بنانے اور بچھانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ بیجنگ کی جانب سے بھاری سبسڈی کی وجہ سے ایچ ایم این ٹیک کی 500 ملین ڈالر کی بولی نیو جرسی میں مقیم سب کوم کی طرف سے کیبل کنسورشیم کو پیش کی گئی ابتدائی تجویز سے تقریباً ایک تہائی کم تھی۔

سنگاپور سے فرانس تک کیبل بچھانے کا یہ منصوبہ ایچ ایم این ٹیک کا اب تک کا سب سے بڑا پروجیکٹ ہوتا لیکن کمیونیکیشن کے لیے حساس سمجھی جانے والی ان کیبلز پر چینی جاسوسی کے امکانات کے بارے میں فکر مند امریکہ نے ایک کام یاب مہم چلاتے ہوئے مذکورہ کنسورشیم کے اراکین پر مراعات اور دباؤ کے ذریعے یہ معاہدہ سب کوم کو دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکہ چین ٹیکنالوجی کے مقابلے میں زیر سمندر کیبلز کی حیثیت ؟

واشنگٹن میں قائم ٹیلی کمیونیکیشن ریسرچ فرم، ٹیلی جیوگرافی کے مطابق، پوری دنیا میں، سمندر کی تہہ کے ساتھ ساتھ 400 سے زیادہ فائبر آپٹک کیبلز چل رہی ہیں، اور بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک کا 95 فیصد بہاؤ انہی کے ذریعے ہوتا ہے۔

امریکی حکومت کے ایک اہم اہلکار اور سیکیورٹی تجزیہ کار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ای میلز، بینکاری لین دین اور فوجی راز تک پر مشتمل حساس ڈیٹآ انہی فائبر آپٹک سے سفر کرتا ہے، اور چین کے پاس یہ ٹھیکے جانے سے تخریب کاری اور جاسوسی کے خطرات لاحق تھے۔

ایک حالیہ تنازع بھی چین اور خود مختار تائیوان کے درمیان اس وقت پیدا ہواجب ان دو مواصلاتی کیبلزکو کاٹ دیا گیا جو تائیوان کو چینی ساحل کے نزدیک واقع اس کے ماتسو جزائر جوڑتی ہیں۔ کیبل کٹنے سے ان جزائر کے 14 ہزار رہائشیوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

تائیوانی حکام کے مطابق کیبل کٹںے کا شک انہیں ایک چینی فشنگ جہاز اور ایک مال بردار جہاز پرہے۔ تاہم اس کا بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے کہ اس واقعے میں چینی جہاز ملوث تھے۔

واضح رہے کہ چین، جو تائیوان کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے، نے جزیرے پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے فوجی اور سیاسی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک، اٹلانٹک کونسل کے سائبر اسٹیٹ کرافٹ انیشی ایٹو کے جسٹن شرمین نے رائٹرز کو بتایا کہ زیر سمندر موجود کیبلز دنیا بھر کی جاسوس ایجنسیوں کے لیے نگرانی کی سونے کی کان ہیں۔ کیوں کہ رازداری برقرار رکھنا بھی ایک مسئلہ ہے اور خفیہ ادارے اپنے ملک کی حدود سے گزرنے والی کیلبز کو با آسانی ٹیپ کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی کی جنگ کی بات کرتے ہیں، جب ہم جاسوسی اور ڈیٹا کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو یہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے ہر پہلو میں زیرِ سمندر کیبلز شامل ہوتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکی حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے دو منصوبوں میں ایسی کیبلز شامل تھیں جو پہلے ہی بحر الکاہل میں ہزاروں میل کے فاصلے پر تیار اور بچھائی جا چکی تھیں۔

پراجیکٹس کے بارے میں کیے گئے عوامی اعلانات کے مطابق، یو ایس ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل، میٹا پلیٹ فارمز اور ایمیزون ڈاٹ کام ان دونوں میں سے بڑے سرمایہ کار تھے۔

مذکورہ منصوبے پر کام کرنے والے ذرائع کے مطابق کیبلز بچھانے میں تاخیر اور اس کا راستہ تبدیل ہونے کی وجہ سے درج بالا کمپنیوں میں سے ہر ایک کو لاکھوں ڈالر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

رواں ماہ کے آغاز میں چینی وزیر خارجہ کن گینگ نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جب تک واشنگٹن چین کے خلاف اپنی دھونس و زبردستی کی پالیسی کو ترک نہیں کرتا، تب تک دونوں سپر پاورز تصادم اور مخالفت کا شکار رہیں گی۔

یاد رہے کہ 2019ء میں، چینی مواصلاتی کمپنی ہواوے ٹیکنالوجیز پر اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر  محکمہ تجارت نے ہواوے اور چین کے دیگر 70 اداروں پر امریکی کمپنیوں سے حکومتی منظوری کے بغیر پرزے اور دیگر آلات کی خریداری پر پابندی لگا دی تھی۔

رائٹرز کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دنیا بھر میں ہواوے ٹیکنالوجیز کو پانچویں جنریشن یا فائیو جی کے مواصلاتی نیٹ ورکس کی تعمیر سے روکنے کے لیے ایک عالمی مہم کا حصہ تھا کیونکہ انہیں خدشات لاحق تھے کہ دیگر ممالک چین کے سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین

ٹک ٹاک بیچ دو ورنہ پابندی کے لیے تیار ہو جاؤ، امریکی دھمکی

امریکی انتظامیہ نے ٹک ٹاک کے چینی مالکان سے...

چینی صدر کے دورہ سعودی عرب کے پانچ اہم پہلو

چینی صدرشی جن پنگ کے دورہ سعودی عرب کے...

امریکہ سعودی تعلقات میں بگاڑ کے دوران چینی صدر کا دورہ سعودی عرب

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے چینی صدرژی...