عمران خان نے ثابت قدمی کی تاریخ رقم کر دی، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طارق خان

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طارق خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ثابت قدم رہ کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
اپنے ایک آرٹیکل میں انہوں نے لکھا ہے کہ عمران خان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا، ان سے بیوفائی کی گئی، ان کا اعتبار ٹوٹتا رہا، اس کے باوجود وہ پرسکون رہے اور اپنی شائستگی کو برقرار رکھا۔
ریاستی مشینری کے جبر کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی جگہ کوئی کوتاہ قد رہنما ہوتا تو پورے حکومتی نظام کے جبر کے باعث کمزور ہو کر بکھر جاتا لیکن وہ پرعزم رہے۔
جنرل (ریٹائرڈ) طارق خان نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی انتخابات میں قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں لیکن یہ ادارہ دوسری طرف دیکھتا رہا، انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کر کے پوری کوشش کی گئی کہ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کے لیے ووٹ ڈالنا مشکل تر بنا دیا جائے۔
اس حوالے سے انہوں نے مزید لکھا کہ انتخابی فہرستوں میں زندہ لوگوں کو مردہ قرار دے دیا گیا اور مردہ افراد کو زندہ بنا کر ان کے ووٹ ڈلوائے گئے۔
اس وقت کی پنجاب حکومت کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پسندیدہ افسروں کی اہم پوسٹوں پر تقرریاں کی گئیں تاکہ انتخابی عمل میں مداخلت کی جا سکے، پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں کا حکم دیا گیا، کئی کو صوبے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جنرل (ریٹائرڈ) طارق خان نے اپنے آرٹیکل میں الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت کے مقرر کردہ افسروں نے اپنے گماشتوں کو اکسایا کہ وہ جعلی ووٹوں سے بیلٹ باکس بھرتے رہیں، اسی طرح پی ٹی آئی کی ٹرانسپورٹ میں بھی رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ سمجھتے تھے حکومتی ہتھکنڈوں کے باعث مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے یہ انتخابات جیت جائے گی لیکن عوام نے انہیں غلط ثابت کر دیا، وہ اس موقع پر اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس حکومت کو رد کر دیا جسے وہ اپنا حقیقی نمائندہ نہیں سمجھتے۔
پی ٹی آئی کی جیت کو منصفانہ انتخابات کا ثبوت قرار دینے کے حکومتی پراپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ عوام نے پولنگ اسٹیشنز پر اپنی موجودگی یقینی بنا کر سرکار کی دھوکہ دہی اور سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
جنرل (ریٹائرڈ) طارق خان نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ 1970 میں شیخ مجیب الرحمان کو ایسی رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، انہیں مشرقی پاکستان میں فتح اس لیے نصیب ہوئی تھی کہ اس وقت انتخابات حقیقی طور پر منصفانہ و غیرجانبدارانہ تھے جبکہ موجودہ ضمنی انتخابات کے دوران عوام نے اپنے مینڈیٹ کو چوری ہونے سے بچانے کے لیے خود پہرہ دیا۔
انہوں نے لکھا ہے کہ عمران خان نے عوام کو مقصد، عزم اور مستقل مزاجی کا سبق پڑھایا اور انہیں دکھایا کہ ایک دیانتدار، بے غرض، پرعزم اور دلیر رہنما کیسا ہوتا ہے۔
- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین

لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

لاہور ہائی کورٹ نے جمعے کو پاکستان تحریک انصاف...

اچھا خاصا جی تو رہا ہوں

یہ لاہور ہے۔ اس میں آج کل زمان پارک...

دو مقدمات میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے دو...