سندھ ہائیکورٹ نے جے ایس گروپ کو بینک اسلامی خریدنے سے روک دیا

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

سندھ ہائیکورٹ نے جے ایس گروپ کو بینک اسلامی کے اکثریتی حصص حآصل کرنے سے روک دیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں بینک اسلامی کے اقلیتی حصص رکھنے والے افراد نے درخواست دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی کہ جے ایس گروپ کو بینک اسلامی کے اکثریتی حصص حاصل کرنے سے روکا جائے۔

درخواست گزاروں میں محمد ایوب ترین، محسن بلغموالا، آصف منان اور اے کے ڈی انویسٹمنٹ مینیجمنٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ 15 نومبر 2022 کو جے ایس بینک نے بینک اسلامی کے 51 فیصد ووٹنگ شئیرز خرید کرنے کے ارادے کا اظہار کیا، اس بارے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور ایس ای سی پی کو بھی بتایا گیا۔

یہ بھی بتایا گیا کہ جہانگیر صدیقی ہی اس معاملے میں حقیقی خریدار ہیں، جہانگیر صدیقی ہی جے ایس بینک اور جے ایس سی ایل کو کنٹرول کرتے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ 15 نومبر 2022 کو ہی جے ایس بینک کے صدر اور سی ای او نے تمام ملازمین کو ای میل بھیجی جس میں بینک اسلامی کو کنٹرول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

درخواست کے مطابق 2015 میں بھی جے ایس سی ایل نے دبئی بینک میں شئیرہولڈنگ خریدنے کی کوشش کی تھی، اسٹیٹ بینک پاکستان نے اسے فاؤنڈرز شئیرہولڈرز ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کے مترادف قرار دیتے ہوئے جے ایس سی ایل کو اس خریداری سے روک دیا تھا۔ اس ناکامی کے بعد جے ایس گروپ اب بالواسطہ طور پر یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ اسلامی کمرشل بینکس قائم کرنے کا جو معیار اسٹیٹ بینک نے متعین کیا ہے، اس کے تحت ایک گروپ دو بینکس نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے جے ایس گروپ نہ ہی نئی اسلامک بینکنگ کمپنی قائم کر سکتا ہے اور نہ ہی پہلے سے قائم اسلامی بینک خرید کر سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ پابندی اس لیے عائد کی گئی ہے تاکہ کئی شخص یا گروپ مقابلے کی فضا کو کمزور نہ کر سکے۔

درخواست کے مطابق جے ایس گروپ کے خلاف منی لانڈرنگ، رائٹس شئیرز فراڈ، غیرقانونی سرمایہ کاری، حکومتی اداروں کو نقصانات پہنچانے اور انسائیڈر ٹریڈنگ جیسے معاملات کی تحقیقات چلتی رہی ہیں، ان میں سے کئی تحقیقات اس وقت بھی جاری ہیں۔

ان میں کیمین آئی لینڈز منی لانڈرنگ کی تحقیقات شامل ہیں جن میں حکومت پاکستان کے فائنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو کیمین آئی لینڈز نے جہانگیر صدیقی اور ان کے بیٹے علی جہانگیر صدیقی کے خلاف منی لانڈرنگ کے متعلق انٹیلیجنس رپورٹس بھیجی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے جے ایس بینک کی مختلف غیرقانونی سرگرمیوں اور ان پر حکومتی خاموشی کا ذکر کیا ہوا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ 2008 میں جے ایس سی ایل نے فراڈ کرتے ہوئے 22،020،000 حصص غیرملکی سرمایہ کاروں کو 475 روپے فی شئیر کے حساب سے فروخت کیے تھے، ان کی کل مالیت 10.459 ارب روپے تھی، ان شئیرز کی قیمت ناجائز طریقے سے بڑھا کر 1326 فی شئیر تک بڑھا دی گئی تھی۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام جاری تحقیقات کے مدنظر جے ایس گروپ اور اس سے منسلک دیگر کمپنیاں فٹ اینڈ پراپر ٹیسٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتیں، ماضی میں بھی اسی بنیاد پر اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی نے جے ایس گروپ اور اس کی دیگر کمپنیوں کو ایچ ایس بی سی بینک کو جے ایس بینک میں مدغم کرنے کا این او سی دینے سے انکار کیا تھا۔

سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ 2009 میں جے ایس گروپ نے جے ایس سی ایل کے ذریعے رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ میں اکثریتی حصہ خرید کرنے کی کوشش کی تھی مگر ایس ای سی پی نے اسٹیٹ بینک کو بتایا کہ وہ جے ایس گروپ کے خلاف قوائد کی خلاف ورزی کی تحقیقات کر رہا ہے۔

درخواست میں بتایا گیا کہ 13 جنوری 2023 کو جے ایس سی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے ایک خط میں بینک اسلامی کے حصص خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا، چونکہ جے ایس سی ایل کے پاس جے ایس بینک کی کنٹرولنگ شئیرہولڈنگ موجود ہے اس لیے یہ فاؤنڈنگ شئیرہولڈرز ایگریمنٹ اور دیگر قوانین کو بائی پاس کرنے کی واضح کوشش ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق 23 فروری 2023 کو جے ایس سی ایل نے کمپنی کا ایک غیرمعمولی جنرل اجلاس طلب کیا جس کے ایجنڈے میں ایک قراردار کی منظوری شامل تھی، اس قرارداد کا مقصد بینک اسلامی میں جے ایس سی ایل کے تمام شئیرز جے ایس گروپ کو فروخت کرنا تھا۔

اس اجلاس میں جے ایس سی ایل نے کھل کر بتایا کہ وہ قواعد کی پابندی کے باعث بینک اسلامی کے مزید شئیرز خرید نہیں کر سکتا، اس لیے وہ بینک اسلامی میں اپنے تمام شئیرز جے ایس گروپ کو فروخت کر رہا ہے، اس طرح جے ایس سی ایل نے اعتراف کر لیا کہ وہ بالواسطہ طریقے سے وہ سب حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے بلاواسطہ کرنے کی اسے قانون اجازت نہیں دیتا۔

درخواست گزاروں نے بتایا کہ 3 مارچ 2023 کو جے ایس بینک نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ اس کے بورڈ آف ڈائرکٹرز نے جے ایس سی ایل سے بینک اسلامی کے 45.45 فیصد حصص اور کنٹرول حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔

درخواست میں سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ جے ایس گروپ کی جانب سے بینک اسلامی کے 51 فیصد حصص اور جے ایس بینک کی طرف سے پہلے ہی خرید کیے گئے حصص کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین

اعظم سواتی کی مزید مقدمات میں گرفتاری نہ کی جائے، سندھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم...