کیا سعودی عرب امریکہ سے دور اور چین، روس کے قریب ہو رہا ہے؟

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

جوبائیڈن کے وائٹ ہاؤس اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کے درمیان تعلقات میں تناؤ شروع دن سے موجود تھا لیکن اوپیک پلس کے تیل کی پیداوار میں روزانہ 20 لاکھ بیرل کمی کے فیصلے نے اسے نئی جہت عطا کر دی ہے۔

امریکہ نے اوپیک پلس، جس کی قیادت سعودی عرب کے پاس ہے، کے اقدام کی شدید مخالفت کی تھی، اس کے باوجود تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کا اعلان عندیہ دے رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق انہوں نے واشنگٹن میں موجود کئی اعلیٰ عہدیداروں سے انٹرویو کیے ہیں جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اوپیک پلس کو اس اقدام سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کی تھیں۔

امریکہ میں درمیانی مدت کے انتخابات قریب ہیں جن میں ڈیموکریٹک پارٹی امریکی کانگریس میں اپنا کنٹرول قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، اس وقت پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سیاسی طور پر نقصان دہ ہوگا۔

اس کے علاوہ اوپیک پلس کے فیصلے سے روس کو فائدہ ہو گا جو چین اور بھارت سمیت کئی اہم ممالک کو تیل فروخت کر رہا ہے، امریکہ یوکرین جنگ کے دوران روس کے توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کم کرنا چاہتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کئی ہفتوں تک اوپیک پلس کے ممالک کو قائل کرتی رہی ہے، حالیہ دنوں میں توانائی، خارجہ پالیسی اور اقتصادیات سے متعلقہ افراد دیگر ممالک پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ پیداوار میں کمی کے خلاف ووٹ دیں۔

گزشتہ ماہ بائیڈن کے سب سے اہم ایلچی اماس ہوشٹن، قومی سلامتی کے عہدیدار بریٹ میک گرک اور انتظامیہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ٹم لنڈرکنگ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس میں تیل کے معاملات خصوصاً اوپیک پلس کے فیصلے پر بات چیت ہوئی تھی۔

جولائی میں بائیڈن کے دورہ سعودی عرب کی طرح ان عہدیداروں کا دورہ بھی تیل کی پیداوار میں کمی کو روکنے میں ناکام رہا۔

ایک سورس نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی عہدیداروں نے سعودی عرب کو امریکہ یا روس میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہا مگر سعودی عرب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر امریکہ کو مارکیٹ میں زیادہ تیل چاہیئے تو وہ اپنے ذخائر میں سے پیداوار بڑھا دے۔

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے اور اسے خرچ کرنے والا ملک ہے۔

سعودی عرب کے وزیرتوانائی پرنس عبدالعزیز نے سعودی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم اپنے ملک کے مفادات ہیں، اس کے بعد وہ ممالک آتے ہیں جو ہم پر اعتماد کرتے ہیں اور جو اوپیک اور اوپیک پلس کے اتحاد میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوپیک اپنے مفادات کو دنیا سے ملا کر دیکھتا ہے کیونکہ ہم عالمی معیشت کی نمو اور توانائی کی بہترین رسد جاری رکھنے میں مدد کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اوپیک کے فیصلے کے بعد بلوم برگ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پرنس عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ روسی تیل کی قیمتیں کم رکھنے کی امریکی کوششوں کی وجہ سے غیریقینی پیدا ہوئی ہے کیونکہ اس اقدام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی کہ اس فیصلے پر عمل کیسے کیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کامعاملہ، یمن میں سعودی سربراہی میں ہونے والی فوجی مہم جوئی کی حمایت سے دستبرداری اور یوکرین جنگ کے بعد روس کے خلاف لیے گئے اقدامات پر سعودی حکام خفا ہیں۔

مارچ میں بائیڈن انتظامیہ نے یو ایس سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے 180 بیرل تیل نکالنے کی ہدایت کی تھی جس سے قیمتوں میں کمی کا دباؤ پڑا تھا۔ مارچ میں ہی اوپیک پلس نے اعلان کیا تھا کہ وہ عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے اعدادوشمار استعمال کرنا ترک کر دیں گے۔

اس اعلان کے پیچھے عالمی توانائی ایجنسی پرغیرمعمولی امریکی اثرورسوخ کے خدشات کارفرما تھے۔

جمعرات کو بائیڈن نے اوپیک پلس کے اعلان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تیل کی منڈی میں مزید اقدامات کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرین یاں پیئر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ اوپیک پلس روس کے ساتھ پینگیں بڑھا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ کانگریس میں ڈیموکریٹس نے سعودی عرب سے امریکی فوجی واپس بلانے اور ہتھیار واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

سینیٹر کرس مرفی نے اپنے ٹویٹ میں خلیجی ریاستوں پر تنقید کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، یمن میں احمقانہ جنگ، لیبیا، سوڈان وغیرہ میں امریکی مفادات کے خلاف اقدامات کا حوالہ دیا۔

سعودی عرب کے امور خارجہ کے وزیر عادل الجبیر سے فوکس نیوز نے امریکی تنقید کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک تیل یا اس سے متعلقہ فیصلوں کے ذریعے سیاست نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں تیل کی بلند قیمتوں کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس تیل صاف کرنے والے کارخانوں کی کمی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان اور جوبائیڈن

  جوبائیڈن کے صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے چند ہفتوں بعد امریکہ کی جاری کردہ رپورٹ میں صحافی جمال خشوگی کے قتل کو شہزادہ محمد بن سلمان سے جوڑا گیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے وزیراعظم بن گئے ہیں جس کے بعد ان کے وکلاء امریکی عدالت میں یہ دلیل دے رہے ہیں کہ انہیں اب صحافی کے قتل کے الزام سے استثنیٰ مل گیا ہے۔

جولائی میں بائیڈن کا سعودی عرب کا دورہ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے تھا لیکن اس موقع پر بھی انہوں نے خشوگی کے قتل کے حوالے سے محمد بن سلمان پر شدید تنقید کی تھی۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

2 × two =

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین

امریکہ سعودی تعلقات میں بگاڑ کے دوران چینی صدر کا دورہ سعودی عرب

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے چینی صدرژی...

ڈالر کی اڑان اور روپے کی بےقدری کا رجحان مسلسل جاری

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی...