سیاسی بحران اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار

Date:

جس وقت جنرل مشرف کے سامنے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا معاملہ سامنے آیا تھا تو مجھے بہت تجسس ہوا کہ اس قدر پیچیدہ مسئلے سے وہ کیسے نمٹتے ہیں۔ میں اس دوران توجہ سے ٹی وی دیکھتا رہا اور سامنے آنے والی ہر خبر کا اپنے ذہن میں تجزیہ کرتا رہا۔

ایک طرف مغربی دنیا کے پاس ناقابل تردید ثبوت آ چکے تھے کہ پاکستان نے ایران اور لیبیا کے ایٹمی پروگرام کے لیے مدد کی ہے تو دوسری جانب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کسی طور امریکہ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ ان کا سینہ بہت سے رازوں کا امین تھا۔

کسی فوجی افسر پر بھی الزام نہیں دھرا جا سکتا تھا کیونکہ پھر اسے حوالے کرنے کا مطالبہ سامنے آ جاتا، اس کے علاوہ ریاستی سطح پر ایٹمی پروگرام پھیلانے کا الزام مضبوط ہو جاتا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر چونکہ قومی ہیرو تھے، اس لیے امریکی بھی ان سیاسی پیچیدگیوں سے آگاہ تھے جو ان کی حوالگی کی صورت میں جنرل مشرف کو پیش آ سکتی تھیں۔

جنرل مشرف نے اپنی سوچ کے مطابق ایسا انتظام کیا کہ نہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو امریکہ کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی پاکستانی ریاست پر ایٹمی ہتھیار پھیلانے کا الزام لگ سکا۔ ان کے اختیار کیے گئے حل پر بہت سے اعتراض کیے جا سکتے ہیں لیکن انہوں نے دونوں چیلنجز کو حل کر لیا۔

بالکل اسی طرح میرے اندر اس وقت تجسس پیدا ہوا جب نواز شریف صاحب نے لندن سے بیٹھ کر جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر الزامات لگائے۔ اس کے ساتھ وہ ایسے اشارے بھی دینے لگے جن سے مراد یہ تھی کہ وہ مزید کئی راز افشا کر سکتے ہیں۔

یہ ایک پیچیدہ مسئلہ تھا کیونکہ نواز شریف پاکستانی ریاست کی دسترس سے باہر بیٹھے تھے اور وہ فوجی قیادت پر بہت سے حساس معاملات کے حوالے سے الزامات بھی عائد کر سکتے تھے جن کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پریشانی کا ماحول پیدا ہو سکتا تھا۔

میں اس وقت بھی دلچسپی سے تجزیہ کرتا رہا کہ معاملات کس جانب جا رہے ہیں۔ پھر میاں صاحب نے نام لینے بند کر دیے اور عوام کو ٹی وی پر بیٹھے اینکرز نے یہ بتانا شروع کر دیا کہ جرنیلوں کے نام لینے کے باعث نون لیگ میں پھوٹ پڑنے لگی تھی چنانچہ نواز شریف نے مزید الزام تراشی ختم کر دی ہے۔

یہ حقیقت نہیں تھی، بظاہر یہ لگتا ہے کہ فوجی قیادت نے نواز شریف سے رابطے شروع کر دیے تھے، ان الزامات کا مقصد بھی یہی تھا۔ یہ روابط وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے گئے۔

اس دوران عمران خان کو سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ وہ اپوزیشن کے خلاف مقدمات ختم کر دیں، ایسی قانون سازی تجویز کی گئی جو نیب کی طاقت سلب کر سکتی تھی، امریم نواز کو لندن جانے دینے کی اجازت کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا۔ یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے الزامات سے خود کو بچانے کے لیے کر رہی تھی۔

عمران خان نے ان میں سے کسی بھی معاملے پر بات ماننے سے انکار کر دیا، ان کے بے لچک رویے کی وجہ سے پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان روابط گہرے ہوتے گئے جو آخرکار تحریک عدم اعتماد پر منتج ہوئے۔ یوں فوجی قیادت نے اپنی دانست میں مسئلے کا حل نکال لیا۔

عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد ملک بھر میں جو حالات پیدا ہوئے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مسئلے کا درست حل نہیں تھا، اس کی وجہ سے معاملات میں مزید بگاڑ پیدا ہو گیا۔ یہ بگاڑ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کو چاہیئے تھا کہ جب عمران خان بے لچک رویہ اپنا رہے تھے اور نواز شریف نام لے کر الزام لگا رہے تھے تو وہ اپنے حلف کو جواز بنا کر دونوں جماعتوں پر واضح کر دیتی کہ وہ مزید فریق نہیں بن سکتی۔

اس سے یہ فائدہ ہوتا کہ سیاست دان آپس میں سیاسی لڑائی لڑنے لگتے جو بالآخر مذاکرات پر منتج ہوتی۔ اگر کسی وقت سیاست دان بند گلی میں پھنس جاتے تو اسٹیبلشمنٹ اس سے نکلنے میں مدد فراہم کر سکتی تھی۔

یہ رستہ اختیار نہیں کیا گیا، چنانچہ عمران خان کی حکومت ہٹانے میں کھلی مدد دینے کے بعد فوج اس کردار سے محروم ہو گئی اور اس کے پاس پی ڈی ایم کی حمایت میں آگے بڑھتے جانے کے سوا کوئی رستہ باقی نہیں بچا۔ یہ حمایت جتنی بڑھتی گئی، اتنا حالات میں خرابی بھی بڑھتی گئی۔

اب حالت یہ ہے کہ سیاسی بحران ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کو دیوالیہ پن کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔

حالات کی یہ سنگین خرابی ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کو موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ اسی کو بہانہ بنا کر پی ڈی ایم کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائے اور حقیقی طور پر غیرجانبدار ہو جائے۔

جس وقت پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو احساس ہو گا کہ دونوں ہی اسٹیبلشمنٹ کے دست شفقت سے محروم ہو گئے ہیں، ان کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا مجبوری بن جائے گا۔ چاہے آغاز میں وہ لڑتے رہیں لیکن پھر دونوں سمجھ جائیں گے کہ مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اس دوران اگر کوئی معاملہ اٹک جاتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ بات آگے بڑھانے میں مدد بھی فراہم کر سکتی ہے کیونکہ غیرجانبدار ہو جانے کی وجہ سے اس کی رائے میں وزن ہو گا۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی گتھی کو سلجھانے کا اس کے سوا کوئی اور رستہ نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسٹیبشلمنٹ کی پی ڈی ایم کی کھلی حمایت صورتحال کو درست نہیں کر رہی بلکہ اسے بگاڑ رہی ہے۔

مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

Share post:

Subscribe

Popular

More like this
Related

علم، معلومات اور تخلیقیت

معلومات کا علم میں تبدیل ہونا ایک بہت ہی...