وزارت توانائی نے 13 اکتوبر کو بجلی کے بلیک آؤٹ کی وجوہات بتا دیں

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

وزارت توانائی کی انکوائری کمیٹی نے 13 اکتوبر 2022 کو ملک کے جنوبی حصے میں ہونے والے بجلی کے بلیک آؤ ٹ کی وجوہات بیان کر دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بلیک آؤٹ کی پہلی وجہ کراچی نیوکلیر پاور پلانٹK-2 اورK-3 کے ٹاور نمبر 26 پر2019ء میں کیا گیا عارضی اور غیر میعاری کام ہے۔

رپورٹ میں ترسیلی نظام میں 2019 میں استعمال شُدہ سامان کے معیار اور کام کرنیوالوں کی استعداد پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

انکوائری کمیٹی کا کہنا ہے کہ ترسیلی نظام میں استعمال ہونیوالے کنیکٹرز ٹرانسمیشن لائن  کے لیے نہیں بنے تھے بلکہ اس میں تبدیلیاں کرکے انہیں عارضی انٹر کنکشن کے لیے استعمال کیا گیا۔

وزارت توانائی نے بلیک آؤٹ کی تیسری وجہ یہ بتائی ہے کہ پراجیکٹ ٹیم نے ٹاور نمبر،26، 26-A اور 27پر 2019 میں  25 سال پرانے تباہ حال کنڈکٹر استعمال کیے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019 میں اس عارضی کام کی سنگینی اور جوہری پاور پلانٹس کی حساسیت کے باوجود مقررہ معیارات کے مطابق اس کی باقاعدہ مرمت اور دیکھ بھال نہ کی گئی۔

وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی روشنی میں فوری تادیبی کارروائی کر رہی ہے۔

اس سے قبل 13 اکتوبر کو وزارت توانائی نے ٹویٹ کیا تھا کہ مُلک کے جنوبی ٹرانسمیشن سسٹم میں حادثاتی خرابی کے باعث متعدد جنوبی پاور پلانٹس مرحلہ وار ٹرِپ ہو رہے ہیں جس سے مُلک کے جنوبی حصے میں بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ آ رہی ہے۔

اسی روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے توانائی خرم دستگیر نے کہا تھا کہ کراچی سے جنوب میں ٹرانشمشن لائنوں میں خرابی پیدا ہوئی جس سے ملک کے دیگر حصے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ کراچی کے جنوب میں بجلی کی دو لائنیں موجود ہیں کے ٹو اور کے تھری جن میں خرابی پیدا ہوئی تھی، معاملے کی انکوائری کی جا رہی ہے کہ دونوں لائنوں میں ایک ساتھ کیسے فالٹ آیا۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین