جولائی اگست میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 26 فیصد کمی

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں مالی سال 2023 کے پہلے دو ماہ کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 26 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اسٹیٹ بنک کے مطابق جولائی اگست کے دوران ایف ڈی آئی کا حجم صرف 169.5 ملین ڈالرز رہا ہے جو گزشتہ برس انہی دو ماہ کے دوران 229.5 ملین ڈالرز تھا۔

اسی طرح مالی سال 2023 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران چین کی مجموعی سرمایہ کاری میں 31 فیصد کمی آئی ہے۔

گزشتہ برس اسے عرصے کے دوران چین کی سرمایہ کاری کا حجم 47.5 ملین ڈالرز رہا تھا جو اس برس کم ہو کر 32.7 ملین ڈالرز ہو گیا ہے۔

دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری رہی جس کا حجم 25 ملین ڈالرز رہا، یہ گزشتہ مالی سال کے پہلے دوماہ کی 11 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے 141 فیصد زیادہ ہے۔

 جولائی، اگست کے دوران توانائی کے شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی جس کا حجم 80 ملین ڈالرز رہا جو کل سرمایہ کاری کا 47 فیصد بنتا ہے۔

دوسرے نمبر پر فائنانشل بزنس سیکٹر رہا جس میں 51 ملین ڈالرز جبکہ مواصلات میں 25 ملین ڈالرز کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی گئی۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالرز سے زائد کی قسط موصول ہو چکی ہے جبکہ چین نے اپنا قرضہ ری شیڈول کر دیا ہے۔

18 ستمبر کو سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ نے بھی 3 ارب ڈالرز کی واپسی کی معیاد ایک برس بڑھا دی تھی۔

تاہم سیاسی عدم استحکام اور معاشی بے یقینی کے باعث غیرملکی سرمایہ کار بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے سے کترا رہے ہیں۔

حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے قرض سے ہٹ کر ملک میں آنے والی رقوم کی ضرورت ہے لیکن اسے ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین

رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری میں 44.2 فیصد کمی

سیاسی عدم استحکام اور معاشی غیریقینی صورتحال کے باعث...

سپریم کورٹ نے ریکوڈک معاہدے کو قانونی قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے ریکو ڈک کیس میں حکومت پاکستان...