نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی کیا ہے؟

Date:

اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی کیا ہے؟ ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟ عمران خان کی عوامی مقبولیت عروج پر ہے، معیشت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، پاکستان دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا ہے، مہنگائی نے سب ریکارڈ توڑ دیے ہیں، نون لیگ کی عوامی حمایت مسلسل سکڑتی جا رہی ہے، تمام غیرجانبدار تجزیہ کار اور معیشت دان اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل نئے انتخابات ہیں۔ اس کے باوجود میاں صاحب حکومت جاری رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟

موجودہ حکومت کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔ اگر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہے تو اس کے لیے آئی ایم ایف کا نسخہ استعمال کرنا ہو گا جس کے تحت عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کرنی پڑے گی، پٹرول تین سو روپے سے اوپر چلا جائے گا، مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا، بجلی کے بل اور بڑھ جائیں گے۔ نون لیگ کی عوامی حمایت پہلے ہی سکڑ چکی ہے، ان اقدامات کی وجہ سے بالکل ہی ختم ہو جائے گی۔

یہ تو ہو گیا کنواں ۔۔ اگر وہ عوام کو مراعات دینے کی کوشش کرتے ہیں، مہنگائی کم کرتے ہیں یا بجلی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرتے تو آئی ایم ایف اگلی قسط نہیں دے گا جس کے بعد ملک کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اس صورتحال میں بھی نون لیگ کی سیاست ختم ہو جائے گی۔

اگر نون لیگ کی حکومت کے پاس 5 سال ہوتے تو وہ عوام کو ابتدائی دو سالوں میں کڑوی گولی نگلنے پر مجبور کر دیتی اور اس دوران معاشی ڈسپلن لا کر اگلے دو سالوں میں مراعات دینا شروع کر دیتی۔ یوں لوگ ابتدائی دو تین سالوں کی مشکلات بھول جاتے۔

لیکن حکومت کے پاس صرف دس گیارہ ماہ کا عرصہ ہے۔ اس دوران اسے مزید غیرمقبول ہونے سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ اگلے انتخابات جب بھی ہوں گے، عمران خان کو بھاری اکثریت سے فتح حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ایسی صورتحال میں نواز شریف اسی رستے پر چلنا چاہتے ہیں جو انہوں نے نوے کی دہائی میں دیکھا تھا اور جسے اب تک وہ استعمال کرتے آئے ہیں۔

نوے کی دہائی میں ہی انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستان میں ڈھیروں چھوٹے بڑے طاقت کے مراکز ہیں، پاور سنٹرز ہیں۔ ان میں کاروباری طبقے، صنعت کاروں، بیوروکریٹس، وکلا تنظیمیوں، صحافیوں، میڈیا ہاؤس کے مالکان سے لے کر عدلیہ اور فوج ۔۔ سب شامل ہیں۔ ان کے سامنے عوامی حمایت اور مقبولیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

انہیں یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ انتخابات میں کامیابی عوام نہیں دے سکتے بلکہ پاور سنٹرز کی حمایت سے یہ کامیابی ملتی ہے۔

یہ سبق سیکھنے کے بعد انہوں نے مختلف طریقوں سے طاقت کے مراکز کر ایک ایک کر کے اپنے ساتھ ملانا شروع کر دیا۔ سب میں انہیں کامیابی ملی لیکن فوج ایک ایسا ادارہ تھا جو ان کے قابو میں کبھی نہیں آیا۔ اس وقت انہوں نے دیگر پاور سنٹرز کے بڑے حصے کو قابو کیا ہوا ہے، صرف دو اہم ترین مراکز باقی رہتے ہیں جن میں ایک عدلیہ ہے اور دوسرا فوج۔

ماضی میں انہیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی حمایت حاصل تھی جس کے ذریعے انہوں نے 2013 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی تھی۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کی بھی خاموش حمایت انہیں میسر تھی۔

اب وہ اسی فارمولے پر دوبارہ عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اگلے انتخابات اگر مقررہ وقت پر ہوتے ہیں تو اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہوں گے جنہیں وہ اپنا حمایتی سمجھتے ہیں۔ جس طرح حدیبیہ پیپر ملز کے کیس میں انہوں نے شریف فیملی کے حق میں فیصلہ دیا تھا، اس کے بعد، غلط یا درست، شریف فیملی انہیں اپنے حق میں بہتر سمجھتی ہے۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ان کے خلاف ریفرنس کا معاملہ چلا تھا، اس سے بھی نواز شریف یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ عمران خان کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔

چنانچہ نواز شریف کو یقین ہے کہ اگلے برس نومبر میں ہونے والے انتخابات کے وقت طاقت کا ایک مرکز ان کے ساتھ ہو گا۔ اب صرف آرمی چیف کا معاملہ باقی رہ جاتا ہے۔ یہاں بھی قرعہ فال جنرل عاصم منیر کے حق میں نکلا ہے جنہیں عمران خان کے دور حکومت میں آئی ایس آئی کے چیف کے طور پر صرف سات ماہ کام کرنے دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے نواز شریف پرامید ہیں کہ نئے آرمی چیف بھی عمران خان سے خوش نہیں ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے حلقوں میں بھی اس حوالے سے تحفظات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ چنانچہ میاں صاحب کے خیال میں طاقت کا یہ مرکز بھی اگلے انتخابات کے وقت ان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔

اس وقت تمام سروے عمران خان کی غیرمعمولی عوامی مقبولیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور غیرجانبدار تجزیہ کار بھی متفق ہیں کہ اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی غیرمعمولی اکثریت سے فتح حاصل کرے گی۔

پاکستان تحریک انصاف سے یہ یقینی فتح چھیننے کے لیے اب ایک طرف قانونی ذرائع رہ جاتے ہیں اور دوسری جانب اسے کمزور کرنے کے لیے طاقتور حلقوں کی پس پردہ کوششیں کام دکھا سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ نواز شریف کی نااہلی کا خاتمہ اور مریم نواز کے لیے سیاسی میدان میں واپسی اسی وقت ممکن ہے جب عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اس کے لیے زمین ہموار کریں۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران نئے آرمی چیف کی تقرری پر سیاسی ماحول اس قدر گرم رہا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی دباؤ ڈالتی رہی تو دوسری جانب نون لیگ اپنی مرضی کرنے پر اڑی رہی۔

نوازشریف یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر حالات ایسے ہو جاتے ہیں جن میں عمران خان نااہل نہیں ہو پاتے اور الیکشن جیت جاتے ہیں تب بھی ان کی فتح کا مارجن انتہائی کم کیا جا سکے گا اور انہیں وہ فیصلہ کن اکثریت حاصل نہیں ہو پائے گی جو انہیں پانچ برس تک اقتدار پر فائز رکھے۔

ایک کمزور اکثریت کے ساتھ جب پی ٹی آئی کو کم از کم تین سال معاشی میدان میں سخت فیصلے کرنے پڑیں گے تو عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف اسی طرح گر جائے گا جیسا ماضی میں عمران خان کے ساتھ ہوا تھا۔

نواز شریف کا خیال ہے کہ ایسی صورتحال میں بھی مریم نواز کو صرف تین برس انتظار کرنا پڑے گا اور غیرمقبول حکومت پر طاقتور حلقوں کی مدد سے شب خون مار کر انتخابات جیتے جا سکیں گے۔

ویسے بھی وہ اپنے خاندان کو این آر او دلوا چکے ہیں۔ نیب کے پر کاٹے جا چکے ہیں، کیسز ختم ہو رہے ہیں، انہیں اگلے چیف جسٹس کے آنے کے بعد اپنی نااہلی ختم ہونے کا یقین بھی ہے۔ اس صورت میں انہیں ہر صورت اگلے برس اپنے وقت پر انتخابات چاہئیں۔ یہ ان کی پہلی ترجیح ہے۔

لیکن وہ ایک اہم بات بھول رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ حکومت مزید دس گیارہ ماہ رہ جاتی ہے تو معیشت کی صورتحال اور بھی خراب ہو گی اور ان کی مقبولیت اس قدر گر سکتی ہے کہ پھر طاقتور حلقے بھی ان کے لیے کچھ نہ کر سکیں۔

یہ امکان بھی ہے کہ ایسی صورتحال میں طاقتور حلقے بھی ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کی حمایت کا پلڑا ایک بار پھر عمران خان کے حق میں چلا جائے۔

یوں لگتا ہے کہ ان کی تمام تر سیاسی حکمت عملی ایسی امیدوں کے سہارے کھڑی ہے جس میں بہت سے اگر مگر اور چونکہ چنانچہ شامل ہیں۔ جب کوئی جنرل فوج کا سربراہ بنتا ہے تو اس کی پہلی ترجیح پاکستان کی بہتری اور فوج ہوتی ہے۔ وہ سیاست دانوں کے لڑائیاں لڑنے کے لیے اپنا کندھا فراہم نہیں کرتا۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے متعلق بھی یہ رائے موجود ہے کہ وہ قانون اور آئین کی پاسداری کرتے ہیں، ان کا رجحان سپریم کورٹ کا وقار قائم رکھنے کی طرف ہو گا، وہ طاقتور لوگوں کو قانون کے دائرے میں لانے سے بالکل نہیں گھبراتے۔ چنانچہ ان سے نواز شریف کی توقعات کامیاب ہونے کا امکان کم ہے۔

یوں لگتا ہے کہ تین برس ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے وہ زمینی حقائق کا زیادہ ادراک نہیں رکھتے۔ اس لیے خواہشوں کی بنیاد پر سیاسی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ اس میں کامیابی کا امکان زیادہ نہیں نظر آتا۔

مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

Share post:

Subscribe

Popular

More like this
Related

اچھا خاصا جی تو رہا ہوں

یہ لاہور ہے۔ اس میں آج کل زمان پارک...

نئی آڈیو لیکس منظرعام پر آنے والی ہیں، عمران خان کا انکشاف

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے...