پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی دگرگوں حالت پر ڈاکٹر عطاالرحمان کا نوحہ 

پوسٹ شیئر کریں

رکنیت

مقبول

پاکستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں تاریخ کے اپنے سب سے بڑے بحران سے گزر رہی ہیں، بہت سے لوگوں کے پاس اپنے عملے کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے فنڈز کی کمی ہے۔ کچھ نے بینک سے قرض لیا ہے، جب کہ کچھ نے ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈز کا استعمال کیا ہے۔ جامعات کے لیےمختص کیا گیا تقریباً 65 ارب روپے کا بجٹ گزشتپہ چار سال سے منجمند پڑا ہے۔ جب کہ یوٹٰلیٹی بلز، تنخواہوں اور درآمد کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے ان کے آپریشنل اخراجات تین گنا بڑھ چکے ہیں۔

لہذا اب ان کے پاس اپنی بقا کے دو ہی راستے ہیں اول ، وہ ٹیوشن فیس میں اضافہ کردیں، جس کا براہ راست اثر ان میں زیر تعلیم لاکھوں بچوں پر پڑے گا۔ دوم، وہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کے تناظر میں جامعات کو بند کردیں۔ اور مستقبل میں اس کے امکانات زیادہ ہیں۔

پاکستان میں تعلیمی معیار کے حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈآکٹر عطاالرحمان کا کہنا تھا کہ” ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد پاکستان نے اعلیٰ تعلیم میں نمایاں پیش رفت کی۔ مجھے اس کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا اور چھ سالہ مدت (2002ء-2008ء) کے دوران، اس میدان مں قابل ذکر پیش رفت ہوئی۔

ایچ ای سی نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے،جامعات تک رسائی بڑھانے اور تعلیم کو قومی ضروریات اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ ایچ ای سی کے قیام کے پانچ سالوں کے اندر، پاکستان کی متعدد جامعات، بشمول نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد ٹائمز ہائر ایجوکیشن اور کواکواریلی سائمنڈز ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں دنیا کی ٹاپ 500 میں شامل ہو گئیں۔

سال 2009 میں ہونے والی اس رینکنگ میں جامعہ کی عمومی درجہ بندی میں نمبر 350 پر اسلام آباد کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، فیلڈ وار رینکنگ میں، نسٹ (اسلام آباد) کو دنیا بھر میں 273 اور یو ای ٹی (لاہور) انجینئرنگ سائنسز میں 281 ویں نمبر پر جب کہ کراچی یونیورسٹی (نیچرل سائنسز میں) 223 ویں نمبر پر رہی۔”

انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے متعارف کرائی گئی ان تعلیمی اصلاحات کی وجہ سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں یہ قابل ذکر پیش رفت ہوئی۔ اور پاکستان میں معیاری تحقیقی مقالوں کی اشاعت میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس ذمرے میں ہم فی کس تحقیقی مقالوں کے ساتھ بھارت کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔

سال 2000ء میں، پاکستان کے پاس فی ایک کروڑ آبادی کے مقابلے میں صرف 44 بین الاقوامی تحقیقی اشاعتیں تھیں جب کہ بھارت کی 172 اشاعتیں تھیں۔ ویب آف سائنس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2017ء تک، ہم نے پاکستانی جامعات میں اعلیٰ معیار کی تحقیق میں 400 فیصد کے ساتھ بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

اس تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اصلاحات کا محور اعلی معیاری فیکلٹی کی تشکیل پر تھا کیوں کہ اسی بنیادی ستون پر اعلی تعلیم کا معیار برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ صرف پی ایچ ڈی کے لیے نئے پروگرام بنانے کے بجائے اعلیٰ معیاری فیکلٹی کے ذریعے تدریسی معیار کر بہتر کرنا تھا۔ اور اس کے لیے ہم نے انتہائی مسابقت کے ذریعے ذہین ترین نوجوانوں کو پی ایچ ڈی کے لیے بیرون ملک واقع معیاری جامعات میں بھیجا اور فراخ دلی کے ساتھ تحقیقی فنڈز کے ساتھ پاکستان واپس لانے پر خرچ کیا۔

ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فُل برائٹ اسکالر شپ پروگرام کو ہم نے ایچ ای سی کی جانب سے ملنے والی نصف فنڈنگ سے شروع کیا۔ اور تقریبا 11 ہزار طلبا کو پوسٹ ڈاکٹریٹ اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے بیرون ملک بھیجا۔

اس مرحلے کو آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ پہلے مرحلے میں فیکلٹی مقرر کرنے کے لیے نئے کنٹریکٹ کے لیے ” ٹینیور ٹریک” سسٹم کے تحت تنخواہ کے بنیادi ڈھانچے میں تبدیلی متعارف کرائی گئی، جس میں پروفیسرز کے لیے وفاقی وزرا سے بھی چار گنا زائد تنخواہیں رکھی گئی۔ اور انہیں مستقل کرنے کے لیے اسسٹنٹ، ایسوسی ایٹ اور پروفیسرز کی سطح پر بین الاقوامی معیار کی کارکردگی کی جانچ رکھی گئی۔

دوسری بات یہ ہے ہم نے بیرون ملک سے واپس آنے والی فیکلٹی کے لیے ملازمتوں کو یقینی بنایا, تیسرے مرحلے میں واپس اآنے والے طلبہ کو ایک لاکھ ڈالر تک کی تحقیقی گرانٹس کی پیش کش کی گئی جس کے لیے وہ وطن واپسی سےایک سال قبل درخواست دے سکتےتھے۔

ان طلبا کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بنائی گئی ڈیجیٹل لائیبریری کے ذریعے بین الاقوامی ادب تک مفت رسائی دی گئی۔ اور ان اقدامات کے بتیجے میں 97 اعشاریہ 5 فیصد ریسچر اسکالرز تعلیم مکمل کرنے کےبعد وطن واپس آئے۔

ایک ایک نئی اسکیم کے تحت، دنیا میں ایک بار پھر، پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں کے تمام محققین کو ایچ ای سی جانب سے ادا کیے جانے والے تجزیاتی چارجز کے ساتھ ملک میں کہیں بھی نصب جدید ترین آلات تک مفت رسائی دی گئی۔ ان اقدامات کے اثرات بہت زیادہ تھے جب کہ 97.5% اسکالرز اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آئے۔

تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے اقدامات میں درج ذیل شامل ہیں:

ہم نے اس کام کے لیے اسپلٹ پی ایچ ڈی پروگرام کا آغاز کیا جس میں غیر ملکی جامعات میں پروفیسر کے ساتھ تعاون شامل تھا۔ وسیع تقاضوں کے ساتھ کورس ورک متعارف کرایا تاکہ ابتدائی تعلیم میں بنیادی خامیوں کو درست طریقے سے دور کیا جاسکے۔

تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پی ایچ ڈی مقالے کی اسسمنٹ اچھے غیر ملکی پروفیسرز کے ذریعے کرائی گئی۔ ہم نے ڈاکٹریٹ کا مقالہ جمع کرانے سے پہلے کسی تسلیم شدہ تحقیقی جریدے میں کم از کم ایک مقالے کی اشاعت کی شرط کو یقینی بنایا۔ جس سے ہمارے پی ایچ ڈی کے کام کو بین الاقوامی معیار پر پرکھا گیا۔

سرقہ سازی کے خاتمے کے لیے ایم فل سے پہلے مقالے میں نقل شدہ مواد کی شناخت کے لیے “ٹرنٹائن اور آئی ٹھینٹیکیٹ ” جیسے خصوصی سافٹ ویئرز سے جانچ کو لازمی قرار دیا۔ یہ دونوں سافٹ ویئر کسی بھی ریرچ پیپر میں دوسرے ذرائع سے نقل کیے گئے متن کو سیکنڈوں میں پکڑ سکتا ہے اور صحیح اقتباسات یا لائنوں کی شناخت کرسکتا ہے جو اصل ماخذ کے ساتھ نقل کیے گئے تھے جہاں سے مواد کاپی کیا گیا تھا۔

جامعات میں کوالٹی ایشورنس سیلز کا ایک نیٹ ورک قائم کیا گیا تاکہ معیار کی یقین دہانی کے تمام پہلوؤں بشمول تدریس، نصاب اور کورس کے مواد، تشخیص کا طریقہ کار اور بولگنا پروٹوکول کے مطابق معیارات کی بین الاقوامی مطابقت کو حل کیا جا سکے۔

 2002ء میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی بہت محدود تھی اور 17-23 سال کی عمر کے صرف 2 اعشاریہ 6 فیصد طلبا کالج یا جامعات کی سطح پر زیر تعلیم تھے۔ یہ شرح زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں 50 فیصد اور کوریا میں 80 فیصد سے زائد ہے۔ اس مسئلے کے حل کےلیے ملک میں کم ازکم چالیس نئی جامعات کا قیام عمل میں لایا گیااور یہ شرح 2008ء تک بڑح کر 9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔جب کہ ہندوستان میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی اوپر ہے۔

2002ء-2008ء کے درمیان اعلی تعلیم کے میدان میں کی گئی سرمایہ کاری کے نتیجے میں متعد د نجی و سرکاری جامعات منظر عام پر آئیں جن میں اسلام آباد میں نسٹ اور کامسیٹس ، کراچی اور سکھر میں آئی بی اے، لاہور میں ورچوئل یونیورسٹی اور کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز اور بہت سے دوسرے شامل تھے۔ لمز لاہور میں ایک اچھی انجینئرنگ فیکلٹی قائم ہوئی۔

ڈاکٹر عطا الرحمان نے مزید کہا کہ ایچ ایس ای کی توجہ کا تیسرا شعبہ قومی ضروریات اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق دی جانے والی تعلیم کے مطابق تھا۔ جس کے لیے ہم نے صنعتوں اور نصاب میں ربط کو بہتر بنانے کے لیے متعدد پروگرام پیش کیے۔

 انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے پاکستان ایجوکیشن ریسرچ نیٹ ورک کے زہر اہتمام ملک بھر میں ایک ڈیجیٹل لائبریری قائم کی گئی، جس میں 220 بین الاقوامی پبلشرز کے تقریباً 25ہزار بین الاقوامی جرائد اور 65ہزار نصابی کتب شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں تحقیق کےمعیار کو پرکھنے کے لیے بین الاقوامی حوالوں کی تعداد ہے۔ اور پاکستان میں پاکستانی محققین کے تحقیقی جرائد میں اضافہ واقعی قابل ذکر ہے۔

سال 2023ء میں جاری ہونے والی جامعات کی عالمی درجہ بندی میں  پاکستان اب دیگر بین الاقوامی سائنسدانوں کی جانب سے پاکستانی اشاعتوں کے حوالہ جات میں اضافے کی شرح کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجسنی نے اپنے این ادر برکس ان دی وال”  کے عنوان سے ایک مضون شائع کیا جب میں تحقیق کے شعبے میں پاکستانی مصنفین کی شان دار پیش رفت کو سراہا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تحقیقی مضامین میں اضافے کی شرح روس، چین، برازیل اور سے زیادہ ہے۔

- Advertisement -
مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

3 × two =

دیکھیں مزید
متعلقہ مضامین