پاک اور ہندوستانی فوج کا موازنہ اور پاکستانی افواج میں اصلاح کا ایجنڈا

Date:

مختلف ممالک کی افواج کی جنگی صلاحیت جانچتے وقت ان کی تعداد اور حجم کی حیثیت ایک مستقل عنصر کی ہے تاہم متعدد عوامل ایسے ہیں جنہیں مدنظر رکھنا ضروری ہے، اگر تعداد کا تناسب ایک مخصوص قابل قبول حد تک ہو تو ان میں سے بعض عوامل فوج کے حجم سے بھی زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔

نیپولین نے کہا تھا کہ جنگ کی صورت میں جسمانی قوت کی نسبت اخلاقی طاقت کی اہمیت تین چوتھائی ہوتی ہے۔ تاہم اس تحریر میں اخلاقی قوت اور ایمان جیسے عناصر کو زیربحث نہیں لایا جائے گا تاکہ تقابل معروضی اور غیرمتنازع رہے۔

پاکستان اور بھارت کی افواج کی تنظیم، تربیت اور روایات کی بنیادیں برطانوی دور سے ابھرتی ہیں مگر دونوں ممالک نے مقامی اصلاحات کا ایک طویل سفر طے کیا ہے اور نئی خصوصیات متعارف کرائی ہیں۔ افواج پاکستان نے امریکی و یورپی ہتھیاروں اور تربیت کا راستہ اختیار کیا جبکہ بھارتی افواج روسی ہتھیاروں اور فوجی نظریے سے متاثر رہیں، اس کے باوجود دونوں افواج میں برطانوی رنگ غالب رہا ہے۔

پاکستان نے چینی دفاعی ہارڈوئیر خرید کیا جبکہ بھارت نے پوری دنیا سے فوجی ہتھیاروں کی خریداری کی لیکن دونوں افواج کا عالمی نظریہ اور فوجی فلسفہ تقریبا ایک جیسی خصوصیات کا حامل رہا۔ جہاں تک فوجی اخراجات کا تعلق ہے تو ڈالرز کی شکل میں بھارت نے پاکستان کی نسبت اپنی افواج کے لیے 7 سے 8 گنا زیادہ بجٹ مختص کیا ہے۔ گزشتہ برس بھارت نے اپنی افواج پر 56 ارب ڈالر کے اخراجات کیے جبکہ پاکستان کے دفاعی اخراجات 7.5 ارب ڈالر رہے۔

بھارت کے دفاعی اخراجات اس کی معاشی شرح نمو کا دو فیصد جبکہ پاکستان کا تین فیصد رہے، جتنا بھارتی معیشت میں وسعت اور پاکستانی معیشت میں سکڑاؤ آ رہا ہے، اتنا ہی دونوں ممالک کی افواج میں بالترتیب ارتقا اور جمود کا عنصر شامل ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر افواج پاکستان کے تنظیمی ڈھانچے، جنگی حکمت عملی اور انتظامی پہلوؤں بشمول ایٹمی حکمت عملی،  پر فوری غوروفکر نہ کیا گیا تو آگے بہت مشکل وقت نظر آ رہا ہے کیونکہ معاشی کمزوری کسی بھی فوج کی جنگی تیاریوں اور لڑنے کی صلاحیت پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہے۔ پاکستان کے پاس مجموعی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال کے جائزے اور جدید حربی طریق کار اور اس ضمن میں نئے نظریات کے ارتقا میں سستی اور تاخیر کے لیے زیادہ وقت باقی نہیں ہے۔

افواج پاکستان کو اپنے تنظیمی ڈھانچے اور بھرتی کے روایتی طریق کار کے علاوہ تربیت اور انتظامی روٹین کو موجودہ شکل میں جاری رکھنے پر اصرار نہیں کرنا چاہئیے اور نہ ہی معروضی معاشی حالات اور بین الاقوامی سیاسی ماحول سے غافل رہ سکتی ہیں۔ جدید حربی طریق کار تیزی سے بدل رہے ہیں اور اس کی نوعیت ہائبرڈ ہو چکی ہے، اس سے خود کو ہم آہنگ بنانے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اب لڑائیاں صرف حربی جنگی صلاحیت کے بل بوتے پر نہیں لڑی جا سکتیں۔

پاکستان اور بھارت کو جدید جنگی تقاضوں کی صدا پر کان دھرنے کی ضرورت ہے اور جو بھی اس نئی اور بدلتی صورتحال سے خود کو ہم آہنگ کرنے میں تیزی دکھائے گا وہ دوسرے سے آگے نکل جائے گا، بھارت نے کسی حد تک دشمن کے خلاف غیرریاستی کرداروں اور معاشی و سیاسی اسباب جیسے عوامل کے استعمال کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے جبکہ پاکستان بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے ان تمام عوامل سے پیچھے ہٹا ہوا ہے جس سے اسے بہت نقصان ہو رہا ہے۔

پاکستان کی زمینی افواج کی تعداد تقریباً  ساڑھے پانچ لاکھ جبکہ بھارت کی 12 لاکھ ہے، اسی طرح بھارت کی پیراملٹری افواج پاکستان سے پانچ گنا ( 5 لاکھ بمقابلہ 25 لاکھ) زیادہ ہیں، بھارت کے پاس ریزرو افواج کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، بھارت کی فضائی لڑائی کی صلاحیت پاکستان سے ڈھائی گنا جبکہ بحری افواج کی تین گنا زیادہ ہیں۔

اس موازنے میں ہم نے ابھی تک اعلیٰ ٹیکنالوجی کے عنصر کو شامل نہیں کیا اور اس پر بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ لڑائی کی صلاحیت کو عملی جنگ میں بدلنے کی صلاحیت کس کے پاس کتنی ہے تاہم پاکستانی فضائیہ کا آپریشن سوفٹ ریٹورٹSwift Retort ، پاک بحریہ کا بھارتی آبدوز کو تلاش کر لینا اور وادی گلوان میں چینی و بھارتی افواج کے درمیان لڑائیوں جیسے حالیہ واقعات ایک ایسی بڑی فوج کی کمزوریاں واضح کرتی ہیں جس کے پاس بہترین اسلحہ تو موجود ہے لیکن وہ جدید مربوط آپریشن  کی صلاحیت سے محروم ہے۔

پاکستان ممکنہ طور پر مرکزی سطح پر مربوط آپریشن Netcentric  کے میدان میں برتری رکھتا ہے اور اس کے پاس ڈرونز، خصوصاً حملہ آور  ڈرونز، کی تعداد زیادہ ہے جو مقامی طور پر بھی تیار کیے جاتے ہیں، اس لیے محدود لڑائی کی صورت میں پاکستان پر دشمن کوئی بڑی برتری حاصل نہیں کر سکتا جبکہ بڑے پیمانے پرجنگ کی صورت میں بھارت پاکستان کی اس ایٹمی threshold  کو چھیڑنے کا خطرہ مول لے گا جس کی حیثیت  ابھی تک نامعلوم اور غیرواضح ہے۔

اس حوالے سے ایک خدشہ بہرحال موجود ہے کہ کوئی اور طاقت افواج پاکستان کی نقل و حرکت اور موجودگی کے متعلق بھارت کو معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ نہ کر لے، اس خدشے کی وجہ بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے ہیں۔

دونوں فریق تقریباً  برابر کی ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم متعدد اندازوں کے مطابق پاکستان کا جوہری اسلحہ اور اس کی ڈیلوری کے ذرائع نہ صرف زیادہ منظم ہیں بلکہ غالباً ان کی تعداد بھی زیادہ ہے، بھارت کے پاس موجود بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں غیرمتعلق ہو جاتے ہیں جبکہ پاکستان کے پاس موجود ڈیلیوری نظام میں بحیرہ ہند تک کے دوردراز مقامات پہ ہندوستانی فوجی اثاثوں تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے۔

البتہ بھارت کا روس سے حاصل کردہ انٹی بیلسٹک میزائل سسٹم ایس 400 نہ صرف باہمی دفاعStrategic Balance  کے توازن کو متاثر کرتا ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں بھارت کو برتری دلاتا ہے، تاہم یہ نظام بھی ملک کے تمام علاقوں اور سماجی، معاشی اور فوجی اثاثوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، علاوہ ازیں پاکستان کا ابابیل ایم آئی آر وی ایس (MIRVs) اور بابر کروز میزائل کسی بھی بہترین فضاعی دفاع میں گھس جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میں اس مضمون میں دونوں ممالک کی ایٹمی پالیسیوں وغیرہ کی گہرائی میں نہیں جاتا کیونکہ یہ اس تحریر کے دائرہ کار سے باہر ہے، بس اتنا کہنا کافی ہے کہ بھارت ہمیں مسلسل کہتا آیا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کا معاہدہ کریں اور ہم جواب میں پہلے جارحیت نہ کرنے کے معاہدے پر زور دیتے آئے ہیں۔ اس معاملے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت خطے میں توازن کا عظیم ذریعہ ہے۔

اگر ہم دونوں ممالک کی سینئر قیادت کو برابر کے درجے پر رکھیں تب بھی افواج پاکستان کی جونیر قیادت نے ہر آزمائش میں غیرمعمولی شجاعت اور مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اس حقیقت کا اظہار ان چھوٹے آپریشنز کے دوران دیکھا گیا ہے جہاں جونئیر افسروں نے آگے بڑھ کر قیادت کی ہے اور دلیری سے لڑے ہیں، کئی مواقع پر سپاہیوں کے مقابلے میں ان کی شہادتوں کا تناسب بے مثال رہا ہے۔

افواج پاکستان تربیت کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے جانی جاتی ہیں، معاشی مجبوریوں کے باعث حقیقی ماحول میں تربیت میں کمی واقع ہو سکتی  ہے لیکن اس کی تلافی دہشت گردی کے خلاف عملی لڑائی کے ذریعے ہو گئی ہے۔ تاہم ایک غیر متوازن لڑائی (Assymetric)  ہونے کی وجہ سے پوری فوج کے بجائے ایک حصے کو اس میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔

معاشی، داخلی، سیکیورٹی اور خارجہ پالیسیوں میں مطابقت کا نتیجہ کئی گنا زیادہ ہوتا ہے اور یہ کسی بھی ملک کی مجموعی اندرونی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہے، بھارت اس میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اگرچہ اقلیتوں کی طرف اس کا رویہ ایک بنیادی کمزوری کا مظہر ہے۔

پاکستان کو دیکھا جائے تو ہمیں اپنی پالیسیوں کو بہتر انداز میں مربوط کرنے کی ضرورت ہے، چونکہ ایسا نہیں ہو پا رہا اس لیے ہمارے ہاں پالیسیوں کے مجموعی اثرات کمزور پڑ جاتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ سفارت کاری، معیشت اور سیکیورٹی کے معاملات ماہرین کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں لیکن اس کی بنیادی سمت اور فوکس کا تعین اوپر موجود سیاسی قیادت کی جانب سے ہونا چاہیئے۔

کسی قسم کی نااہلی یا سستی ایسے خلا کو جنم دیتی ہے جسے مہارت نہ رکھنے والے افراد پر کرتے ہیں جس سے پورے نظام کو نقصان پہنچتا ہے، ہمارے اداروں، جن میں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ، افواج اور میڈیا وغیرہ شامل ہیں، کو اپنے اپنے مخصوص میدان کے دائرے میں کام کرنے کا فن سیکھنے کی ضرورت ہے، اس اصول پر عمل پیرا نہ ہونے کی صورت میں پاک فوج سمیت مختلف اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور احترام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک جنگ لڑنے والی قوت کے جذبے کے لیے عوام کی حمایت جزو لاینفک ہے۔

ماخوذ نتیجہ

ایٹمی اسلحہ سے لیس افواج پاکستان بھارت کی جانب سے کسی قسم کے جارحانہ عزائم سے نمٹنے کی معقول صلاحیت رکھتی ہیں اور عارضی ناکامی کی صورت میں دفاع (Reestablish Deterrence ) کو پھر سے ممکن بنا سکتی ہیں لیکن وہ بین الاقوامی دباؤ اور کچھ  طاقتوں کو خوش رکھنے کی پالیسیوں کے نتائج کی مکمل فہم نہ رکھنے کے باعث نچلی سطح پر موجود مدافعتی (lower spectrum of warfare) کمزوریوں کا شکار ہو رہی ہیں۔ 

تجاویز

پورے فوجی نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ اسے فن حرب کے جدید ذرائع اور نظریات کے حوالے سے زیادہ اسمارٹ، موثر اور شمولیاتی بنایا جا سکے۔

سیاسی پالیسیوں اور فوجی نظریات کے معاملے میں ایٹمی صلاحیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نظام کو زیادہ کفایت شعار بنانے کی ضرورت ہے۔

ایک اعلیٰ سطحی ہائبرڈ وارفئیر ہیڈکوارٹرز بنایا جائے جو منصوبہ سازی، سمت کا تعین اور مشترکہ آپریشنز کی نگرانی جیسے فرائض سرانجام دے، اس ادارے کا سربراہ براہ راست وزیراعظم کو جواب دہ ہو اور تمام ضروری مہارت کو ایک چھت کے نیچے جمع کر سکے جبکہ تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں پر اس کی ہدایات پر عمل درآمد لازمی قرار دیا جائے۔

تمام فوجی ہیڈکوارٹرز کا فیصلہ سازی کا نظام اس طرح تشکیل دیا جائے کہ اس میں ایک شخص کی سوچ کے حاوی ہونے جیسی کمزوریاں دور ہو سکیں اور اس نظام میں مشاورتی عمل اختیاری کے بجائے لازمی قرار دیا جائے۔ حکمت عملی سے متعلق تمام فیصلہ سازی اقتدار پر فائز سیاسی جماعت کی ہدایات اور منظوری سے کی جائے۔

حکومت، وزارت دفاع اور افواج پاکستان کو غور و خوض کے بعد ایک مکمل دفاعی نظام کے فلسفے کو کسی بھی قسم کی کمزوریوں سے پاک کیا جائے جبکہ کم شدت کے اور ہائبرڈ حربی ذرائع کی ازسرنو تشکیل پر بھی غوروفکر کیا جائے۔ دفاعی نظریہdeterrence  کے معاملے میں سیاسی و فوجی قیادت کے اظہارعزم  کی اہمیت کا فہم  انتہائی ضروری ہے۔

لیفٹیننٹ جرنل نعیم خالد لودھی (ریٹائرڈ)

جنوری ۲۰۲۳

Lt. Gen. (R) Naeem Khalid Lodhi
Lt. Gen. (R) Naeem Khalid Lodhihttps://narratives.com.pk
The writer is a former defence minister and defence secretary. He has held major command positions in the Pakistan Army.

Share post:

Subscribe

Popular

More like this
Related