برفانی جھیل کی تہہ سے 50 ہزار سال پرانا زومبی وائرس دریافت

Date:

سائنسدانوں نے 50 ہزار سال سے سائبیریا کی برف میں دفن زومبی وائرس کو دریافت کیا ہے جو اتنے طویل عرصے تک برف میں دبے رہنے کے باوجود انفیکشن پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فرنچ نیشنل سنٹر فار سائنٹفک ریسرچ کے سائنسدانوں نے مختلف جگہوں سے 13 قسم کے ایسے وائرس نکالے ہیں جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ان میں سے سب سے پرانا وائرس روس کی یوکیچی ایلس جھیل سے نکالا گیا ہے جو 48 ہزار 500 سال پرانا ہے۔

2014 میں انہی سائنسدانوں نے برف میں دفن 30 ہزار برس پرانے وائرس کو تلاش کیا تھا جو ابھی بھی انفیکشن پھیلانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

اب انہوں نے 48 ہزار 500 برس پرانا وائرس تلاش کر کے اپنا ہی قائم کیا ہوا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

گلوبل وارمنگ سے پیدا ہونے والے خطرات

سائنسدان ان قدیم وائرس کو اس لیے تلاش کر رہے ہیں تاکہ صحت عامہ پر ان کے اثرات کا جائزہ لے سکیں۔

سائنسی تحقیق کے مطابق گلوبل وارمنگ برف کے ان بڑے تودوں کو مستقل بنیادوں پر پگھلا رہی ہے جو شمالی نصف کرہ کے ایک چوتھائی حصہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اس کی وجہ سے ایسا نامیاتی مواد زمین کی سطح پر آ رہا ہے جو لاکھوں برس سے برف میں دفن تھا اور اس میں ممکنہ طور پر مہلک وائرس بھی شامل ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر ان قدیم وائرس نے پودوں، جانوروں یا انسانوں کو اپنا شکار بنانا شروع کر دیا تو صورتحال تباہ کن ہو سکتی ہے۔

کیا قدیم وائرس انسانوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں؟

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ زومبی وائرس انسان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، ان کی وجہ سے اموات کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

2016 میں سائبیریا میں انتھراکس کے پھیلاؤ کے باعث ایک بچہ ہلاک ہو گیا جبکہ درجنوں افراد کو ہسپتال داخل کرانا پڑا تھا۔

حکام کا خیال ہے کہ قدیم برف کے پگھلنے کے باعث ایک رینڈیر کی لاش سطح زمین پر آ گئی تھی جو دہائیوں قبل انتھراکس کے باعث ہلاک ہوا تھا، اس وبا کے دوران دو ہزار 3 سو رینڈئر مر گئے تھے۔

مزید وباؤں کا خطرہ موجود ہے

ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا برف میں مدفون یہ قدیم وائرس کرہ ارض کی گرمی، آکسیجن اور الٹراوائلٹ شعاعوں کے اثرات کی وجہ سے انسانوں کو متاثر کر سکیں گے یا نہیں۔

تاہم سائنسدانوں کے مطابق جس طرح تیزی سے برف پگھل رہی ہے اور اس کے باعث خالی ہونے والے زمین پر انسانوں نے بسنا شروع کر دیا ہے، اس کی وجہ سے ان وائرس کے انسانوں کو متاثر کرنے کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اب تک دریافت ہونے والے بڑے حجم کے وائرس سے انفیکشن کے خطرات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو وائرس ابھی تک دریافت نہیں ہو پائے وہ بھی خطرناک نہیں ہو گے۔

ان کا خیال ہے کہ برف کے پگھلنے کے باعث مستقبل میں کووڈ 19 جیسی صورتحال بار بار درپیش آ سکتی ہے۔

مجاہد خٹک
مجاہد خٹکhttp://narratives.com.pk
مجاہد خٹک سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

3 + seventeen =

Share post:

Subscribe

Popular

More like this
Related